Thursday, 3 December 2020

چاند مدہم ہے رات چپ ہے

 انتظار


چاند مدہم ہے، رات چپ ہے

نیند کی گود میں جہان چپ ہے

دُور وادی میں دُودھیا بادل

جھک کے پربت کو پیار کرتے ہیں

دل میں ناکام حسرتیں لے کر

ہم تیرا انتظار کرتے ہیں

ان بہاروں کے سائے میں آ جا

پھر محبت جواں رہے، نہ رہے

زندگی تیرے نامرادوں پر

کل تلک مہربان رہے نہ رہے

روز کی طرح آج بھی تارے

صبح کی گرد میں نہ کھو جائیں

آ جا کہ یہ جاگتی آنکھیں

کم سے کم ایک رات تو سو جائیں


ساحر لدھیانوی

No comments:

Post a Comment