Saturday, 19 December 2020

خزاں جب تک چلی جاتی نہیں ہے

 خزاں جب تک چلی جاتی نہیں ہے

چمن والوں کو نیند آتی نہیں ہے

جفا جب تک کہ چونکاتی نہیں ہے

محبت ہوش میں آتی نہیں ہے

جو روتا ہوں تو ہنستا ہے زمانہ

جو سوتا ہوں تو نیند آتی نہیں ہے

تمہاری یاد کو اللہ رکھے

جب آتی ہے تو پھر جاتی نہیں ہے

کلی بلبل سے شوخی کر رہی ہے

ذرا پھولوں سے شرماتی نہیں ہے

جہاں میکش بھی جائیں ڈرتے ڈرتے

وہاں واعظ کو شرم آتی نہیں ہے

نہیں ملتی تو ہنگامے ہیں کیا کیا

جو ملتی ہے تو پی جاتی نہیں ہے

جوانی کی کہانی داورِ حشر

سرِ محفل کہی جاتی نہیں ہے

کہاں تک شیخ کو سمجھائیے گا

بری عادت کبھی جاتی نہیں ہے

گھڑی بھر کو جو بہلائے مرا دل

کوئی ایسی گھڑی آتی نہیں ہے

ہنسی بسمل کی حالت پر کسی کو

کبھی آتی تھی اب آتی نہیں ہے


بسمل عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment