کتبہ
مجھ کو یہ احساس ہے
میں مر گیا ہوں
ٹوٹ کر میں ریزہ ریزہ
ہر طرف بکھرا ہوا ہوں
پھر بھی اک آواز
سائے کی طرح
احساس سے چمٹی ہوئی ہے
تم بھی زندہ ہو اور زندہ رہو گے
پھر بھی میں یہ چاہتا ہوں
مجھ کو میری قبر کی صورت بنا دو
اور
میرے نام کا
کتبہ لگا دو
اسلم آزاد
No comments:
Post a Comment