تیرے سب خط سنبھال رکھے ہیں
کتنے غم ہیں جو پال رکھے ہیں
یونہی چہرے یہ جھُریاں تو نہیں
ساتھ میں ماہ و سال رکھے ہیں
یہ مِرے شعر قیمتی ہیں بہت
ان میں تیرے خیال رکھے ہیں
عشق کے ساتھ درد کے ناطے
جتنے رکھے، کمال رکھے ہیں
حادثے وقت میں ہیں جتنے بھی
ہم نے وہ کل پہ ٹال رکھے ہیں
اس نے کوئی جواب ہی نہ دیا
ہم نے کتنے سوال رکھے ہیں
کتنا مشکل تھا زندگی کا سفر
سانس ہم نے بحال رکھے ہیں
امجد تجوانہ
No comments:
Post a Comment