بوئے چمن گئی نہ فراز چمن سے دور
دیوانہ جائے گا کہاں دار و رسن سے دور
گل عارضوں سے دور، ہر اک گلبدن سے دور
فکرِ معاش لے چلی ہم کو وطن سے دور
مغرب کے آسمان پہ چمکا ہلال عید
ساغر چھلک رہے ہیں غریب الوطن سے دور
رہزن ہے کون، کون ہے رہبر؟ خبر کسے
کیا راہبر کے پاس ہوں کیا راہزن سے دور
اٹھا ہے پھر فضا میں کئی بجلیوں کا شور
رکھنا چمن کو دسترسِ اہرمن سے دور
بے تار رابطوں میں بھی لازم ہے احتیاط
رہتا ہوں کج شعار و دریدہ دہن سے دور
بزمی برائے عدل کہاں اب عزیز مصر
ہوتے ہیں اب نہ داغ پھٹے پیرہن سے دور
سرفراز بزمی
No comments:
Post a Comment