Sunday, 10 January 2021

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے

 حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے

ورق ورق پہ ہیں تحریر خواب زخموں کے

سوال پھول سے نازک جواب زخموں کے

بہت عجیب ہیں یہ انقلاب زخموں کے

غریبِ شہر کو کچھ اور غمزدہ کرنے

امیرِ شہر نے بھیجے خطاب زخموں کے

سَروں پہ تان کے رکھنا ثواب کی چادر

اترنے والے ہیں اب کے عذاب زخموں کے

وہ ایک شخص کہ جو فتح کا سمندر تھا

اسی کے حصے میں آئے سراب زخموں کے

کھِلیں گے نخل تمنا کی ٹہنی ٹہنی پر

لہو کی سرخیاں لے کر گلاب زخموں کے

سجا کے رکھوں گا محرابِ دل میں اے نیر

بہت عزیز ہیں مجھ کو گلاب زخموں کے


اظہر نیر

No comments:

Post a Comment