Friday, 15 January 2021

سب نے مجھ ہی کو دربدر دیکھا

 سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھا

بے گھری نے مِرا ہی گھر دیکھا

بند آنکھوں سے دیکھ لی دنیا

ہم نے کیا کچھ نہ دیکھ کر دیکھا

کہیں موجِ نمو رُکی تو نہیں؟

شاخ سے پھول توڑ کر دیکھا

خود بھی تصویر بن گئی نظریں

ایک صورت کو اس قدر دیکھا

ہم نے حسنِ ہزار شیوہ کو

کتنی نظروں سے اک نظر دیکھا

اب نمو پائیں گے دلوں کے زخم

ہم نے اک پھول شاخ پر دیکھا


تابش دہلوی

No comments:

Post a Comment