Friday, 8 January 2021

بس اک جہان تحیر سے آنے والا ہے

 بس اک جہان تحیر سے آنے والا ہے 

وہ اجنبی مجھے اپنا بنانے والا ہے 

گلاب سنگ کی صورت دکھانے والا ہے 

کہاں کہاں وہ مجھے آزمانے والا ہے 

کوئی تو دیکھنے والا ہے میری آنکھوں سے 

کوئی تو ہے جو تماشہ دکھانے والا ہے 

یہ چاند اور ستارے تو اک بہانہ ہیں 

کچھ اور ہے جو یہاں جگمگانے والا ہے

ہر ایک جسم یہاں روح کی علامت ہے 

یہ ریگزار بھی نغمہ سنانے والا ہے 

بس اک سوال کی تخلیق ہے بشر جیسے 

کہاں سے آیا ہے کس اور جانے والا ہے 

اسے خبر ہے کہاں روشنی کا ماخذ ہے 

وہ تیرگی میں دلوں کو جلانے والا ہے 

امیر اس کی امانت اٹھا نہیں سکتا 

فقیر اصل میں اس کا خزانے والا ہے

وہ ایک پیاس کا لمحہ جو میرے اندر ہے 

کبھی کبھی تو سمندر لٹانے والا ہے

وہ خاکسار کو دیتا ہے پھول حصے میں 

وہ سنگزار میں دریا بہانے والا ہے

بہت عزیز ہے زیر و زبر کا کھیل اسے

بجھا بجھا کے تمنا جگانے والا ہے 

وہ ایک گوہر یکتا ہے میرے ساگر میں 

وہ ایک اشک کہ آنکھوں میں آنے والا ہے

ثمر کو باندھ کے رکھتا ہے وہ درختوں پر 

جو پک گیا اسے نیچے گرانے والا ہے 

وہ اپنے آپ ہی گھر لوٹ آئے گا احمد

کسی کو کون ہمیشہ بلانے والا ہے 


احمد شناس

No comments:

Post a Comment