سر سے خوشیوں کی بلا آج تو ٹالی جائے
قہقہے ہونٹ سے اور ہاتھ سے تالی جائے
جیب کا بوجھ بڑھاتے ہوئے سِکوں کے عوض
کیوں نہ مجبور فقیروں سے دعا لی جائے
کتنی لذت ہے ان آنکھوں کو لہو کرنے میں
دل یہ چاہے کہ شبِ ہجر بڑھا لی جائے
تہمتیں ہیں کہ وراثت میں ملی ہیں ہم کو
ہاں ضروری ہے یہ جاگیر سنبھالی جائے
اس لیے میں نے جھکایا ہے یہ سر مقتل میں
میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے
دل یہ چاہے تجھے آنکھوں میں مقید کر لیں
دل یہ چاہے تِری تصویر بنا لی جائے
یہ بھی چاہوں کہ اندھیروں کی قسم کھاتا رہوں
یہ بھی چاہوں کہ کوئی شمع جلا لی جائے
شاعری میں یہی عباس ہنر جانا ہے
شعر کہنا ہو تو محسن سے ادا لی جائے
حیدر عباس
No comments:
Post a Comment