Saturday, 9 January 2021

جیسے دیوار ہو اک دوسری دیوار کے ساتھ

 جیسے دیوار ہو اک دوسری دیوار کے ساتھ

ایسا ہی ایک تعلق ہے مِرا یار کے ساتھ

اس لیے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا کبھی

تُو نہ چل پائے گی دنیا مِرے معیار کے ساتھ

کیا عقیدت تھی تِرے شہر میں داخل ہوتے

رکھ دی دروازے پہ دستار بھی تلوار کے ساتھ

اس نے دیکھا تھا مجھے اتنی عقیدت سے کہ میں

چل پڑا اٹھ کے محبت سے خریدار کے ساتھ

میں نے اس واسطے پھر اور محبت نہیں کی

کیا کسے چاه سکوں گا دلِ بیمار کے ساتھ

اٹھ گئے سارے تماشائی تماشا اجڑا

مر گئی ساری کہانی مِرے کردار کے ساتھ


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment