شہر خاموش خزاؤں کا نگر لگتا ہے
خشک ہر راہگزر برگِ شجر لگتا ہے
وقتِ آدم سے ہر اک راز نہاں ہے دل میں
کتنا ہمراز یہ آفاق بشر لگتا ہے
کاٹ کر پھینک دیا کرتی تھی جس کو دنیا
اب نمائش میں وہی دستِ ہنر لگتا ہے
بارِ ہستی کے علاوہ نہ رہے کچھ ہمراہ
ذہن کو بار بہت رختِ سفر لگتا ہے
تیری آمد جو نہیں اس میں تو بیکار ہے سب
آج کل دل کا محل بھوت کا گھر لگتا ہے
پھر سماعت کے لئے کان کھڑے ہیں فرحت
ان کے اندازِ تکلم کا اثر لگتا ہے
فرحت مشتاق
No comments:
Post a Comment