Friday, 1 January 2021

کیا بتائیں یار کیا کیا جل گیا

 کیا بتائیں یار کیا کیا جل گیا

آگ میں جلنا تھا جتنا جل گیا

آگ پہلے سوکھے پتوں میں لگی

اور پھر جنگل گھنا سا جل گیا

کس قدر حِدت مِری خواہش میں تھی

ہاتھ میں آتے ہی پیسا جل گیا

میں نے دیکھا راکھ ہوتی آنکھ سے

ایک بچے کا کھلونا جل گیا


انور جاوید ہاشمی

No comments:

Post a Comment