قاتل
ذرا یہ سوچو
کہ مار دینا کسی کو جاں سے
تمہیں بھلا کیا سکون دے گا؟
خدا نے جس کو جہاں میں بھیجا
لہو بہایا ہے تم نے اس کا
تڑپتا لاشا پڑا زمیں پر
خدا کو آواز دے رہا ہے
تمہیں بھلا کس نے حق دیا ہے
کہ جان لے لو کسی بشر کی
قصور ماں کا بھلا کیا تھا؟
کہ جس کے آنسو نہ تھم رہے ہیں
نڈھال غم سے ہوئی ہے جاتی
وہ اس کے ہونٹوں کا کپکپانا
تمہیں بھلا کیا سکون دے گا؟
وہ بیوہ زندہ ہی گڑ گئی ہے
کہ جس کے دل میں تھے خواب کتنے
وہ سہہ رہی ہے عذاب کیسا؟
وہ اس کی آنکھوں سے آنسو آنا
تمہیں بھلا کیا سکون دے گا؟
وہ ننھے منے یتیم بچے
جنہیں ابھی یہ خبر نہیں ہے
کہ ان کے بابا کا جرم کیا تھا؟
سوال اک دن کریں گے تم سے
وہ بے قصوروں پہ قہر ڈھانا
تمہیں بھلا کیا سکون دے گا؟
وہ باپ بوڑھا اداس بیٹھا
وہ اپنے آنسو بھی پی رہا ہے
نہ مر رہا ہے نہ جی رہا ہے
بتاؤ ہنستا یہ گھر جلانا
تمہیں بھلا کیا سکون دے گا؟
ذرا یہ سوچو
کہ تم نے مردود کیا کِیا ہے؟
خبر ہے تم کو؟
کہ کتنے لوگوں کا خوں کِیا ہے؟
دانش سالک
No comments:
Post a Comment