بیچ میداں کے ہراؤں گا پلٹ آؤں گا
ہاتھ دشمن سے ملاؤں گا پلٹ آؤں گا
اینٹ کے بدلے میں پتھر نہ اٹھاؤں گا میں
ایک دو شعر سناؤں گا پلٹ آؤں گا
میں محبت کا تقاضا نہ کروں گا ان سے
بات دل کی میں بتاؤں گا پلٹ آؤں گا
الوداع کرتے ہوئے دل تو بہت روئے گا
درد کو ہنس کے چھپاؤں گا پلٹ آؤں گا
مر گیا بھی تو مرے شعر رہیں گے زندہ
موت سے ہاتھ ملاؤں گا پلٹ آؤں گا
دانش سالک
No comments:
Post a Comment