Monday, 11 January 2021

بیچ میداں کے ہراؤں گا پلٹ آؤں گا

 بیچ میداں کے ہراؤں گا پلٹ آؤں گا

ہاتھ دشمن سے ملاؤں گا پلٹ آؤں گا

اینٹ کے بدلے میں پتھر نہ اٹھاؤں گا میں

ایک دو شعر سناؤں گا پلٹ آؤں گا

میں محبت کا تقاضا نہ کروں گا ان سے

بات دل کی میں بتاؤں گا پلٹ آؤں گا

الوداع کرتے ہوئے دل تو بہت روئے گا

درد کو ہنس کے چھپاؤں گا پلٹ آؤں گا

مر گیا بھی تو مرے شعر رہیں گے زندہ

موت سے ہاتھ ملاؤں گا پلٹ آؤں گا


دانش سالک

No comments:

Post a Comment