پھول سا رشتہ
یاد ہے تم کو
پھول تھا دیا تم نے
بالکل اپنے دل جیسا
اس گلاب کی ساری پتیاں
مہکا سا کچھ بہکا سا اب شعر کہنے لگتی ہیں
کبھی نظمیں جنتی رہتی ہیں
وہ گلاب خود بھی اب غزل کا سنیاسی ہے
میں نے اس کی ٹہنی بھی ساتھ سنبھال کے رکھی ہے
کانٹے بھی جو لگے آئے تھے ساتھ کچھ
سب بچا رکھے ہیں
کبھی تِرچھا سا کانٹا چبھ جائے تو
خون بہنے لگتا ہے
کاغذوں کی سانسیں چلنے لگتی ہیں
اک کہانی خود کو لکھنے لگتی ہے
سچ کہا
یہ افسانے شاعری کتابوں کے سلسلے
پھول کا طلسمی سا ناطہ ہیں
سب تِرے نام کا حصہ ہیں
زبیر فیصل عباسی
No comments:
Post a Comment