Saturday, 6 February 2021

یاد ہے تم کو پھول تھا دیا تم نے

 پھول سا رشتہ


یاد ہے تم کو

پھول تھا دیا تم نے 

بالکل اپنے دل جیسا

اس گلاب کی ساری پتیاں

مہکا سا کچھ بہکا سا اب شعر کہنے لگتی ہیں

کبھی نظمیں جنتی رہتی ہیں

وہ گلاب خود بھی اب غزل کا سنیاسی ہے

میں نے اس کی ٹہنی بھی ساتھ سنبھال کے رکھی ہے

کانٹے بھی جو لگے آئے تھے ساتھ کچھ

سب بچا رکھے ہیں

کبھی تِرچھا سا کانٹا چبھ جائے تو

خون بہنے لگتا ہے 

کاغذوں کی سانسیں چلنے لگتی ہیں

اک کہانی خود کو لکھنے لگتی ہے

سچ کہا

یہ افسانے شاعری کتابوں کے سلسلے 

پھول کا  طلسمی سا ناطہ ہیں 

سب تِرے نام کا حصہ ہیں


زبیر فیصل عباسی

No comments:

Post a Comment