Monday, 1 March 2021

کچھ ان کی جفا ان کا ستم یاد نہیں ہے

 کچھ ان کی جفا ان کا ستم یاد نہیں ہے

غمگین ہوں لیکن کوئی غم یاد نہیں ہے

دلدادۂ اصنام ہے فطرت مِری، لیکن

تھا ساتھ کبھی کوئی صنم یاد نہیں ہے

اپنوں کی عنایات کا ممنون ہوں ایسا

غیروں کا مجھے کوئی ستم یاد نہیں ہے

پایا ہے نشاں جب سے تِری راہ گزر کا

کیسی ہے رہِ دیر و حرم یاد نہیں ہے

لایا ہے کہاں یہ غمِ ایام فرید اب

بخشا تھا کبھی اس نے بھی غم یاد نہیں ہے


فرید عشرتی

No comments:

Post a Comment