اٹھا رکھا ہے دل سنگِ گراں کی طرح
دیا ہے قدرت نے بھی احساں کی طرح
دل کے معاملے سمجھ نہیں آتے
گہرا ہے بحرِ بے کراں کی طرح
اکثر خدا بھی رہتا ہے اس میں آ کر
کعبے جیسا یہ بھی ہے مکاں کی طرح
دھڑکے تو اک جہاں اس میں آباد
جو رکے تو پتھر بے جاں کی طرح
ایماں جو دوڑے خون بن کر
دھڑکتا ہے دلِ مسلماں کی طرح
غیر سے بڑھائے جو راہ و رسم
فاسق ہے کافر کے ایماں کی طرح
مبین نثار
No comments:
Post a Comment