Tuesday, 2 March 2021

ہم نے تم سے فرقت کا عندیہ نہیں مانگا

ہم نے تم سے فرقت کا عندیہ نہیں مانگا

یعنی، رائے مانگی ہے تصفیہ نہیں مانگا

تم سے بس گزارش کی، ہیں مریضِ دل دیکھو

اور علاج بھی تم سے شرطیہ نہیں مانگا

تم سے قرب مانگا کیا، تم سے وصل چاہا کیا

حلفیہ نہیں مانگا،۔ قسمیہ نہیں مانگا

دل کا میل دھو ڈالا، صرف ایک سَوری پر

آنسوؤں کی صورت میں تزکیہ نہیں مانگا

تم سےتم کومانگا تو صدق دل سے خواہش کی

اور پھر خدا سے بھی شوقیہ نہیں مانگا

جو بھی آیا مشکل میں، دوست ہو یا دشمن ہو

کام آئے ہیں سب کے، شکریہ نہیں مانگا

اک مکالمہ چاہا اس غزل سے ثانی نے

جلتے بلتے زخموں کا نشریہ نہیں مانگا


وجیہ ثانی 

No comments:

Post a Comment