راستہ فرار کا یوں نہ اختیار کر
موت کی طرف نہ جا زندگی سے پیار کر
ہم ہی راہِ عشق میں کوئی نقش چھوڑ دیں
سیکڑوں چلے گئے زندگی گزار کر
آرزو جواب کی دم نہ توڑ دیں کہیں
تھک گئی مِری زباں آپ کو پکار کر
میرے لب پہ آ گئی ان کو دیکھ کر ہنسی
مطمئن ہے جو مجھے پتھروں سے مار کر
موسمِ بہار نے کس قدر غلط کہا
لوٹ کر میں آﺅں گا میرا انتظار کر
وادئ یقین سے ان کی بزمِ ناز تک
آگ کا یہ راستہ مسکرا کے پار کر
نظر ایٹوی
No comments:
Post a Comment