Monday, 1 March 2021

میں نے سن رکھی ہے صاحب ایک کہانی دریا کی

 میں نے سن رکھی ہے صاحب ایک کہانی دریا کی

شام کنارے بینچ پہ بیٹھے، وہ بھی زبانی دریا کی

ورنہ ہم بھی آئینے کے، بھید سے واقف ہو جاتے

ہم نے اپنی من مانی کی، ایک نہ مانی دریا کی

ریت کے چھوٹے ٹکڑے پر ہی آبادی مقصود ہوئی

اسی بہانے چاروں جانب ہے سلطانی دریا کی

آنکھیں ہی اظہار کریں تو شاید کوئی بات بنے

سورج ڈھلتے وقت جو دیکھی تھی ویرانی دریا کی

صبحِ ازل سے ایک ہی جیسے ملتے جلتے دریا ہیں

کس نے دیکھی کس نے جانی شکل پرانی دریا کی

سات سمندر دیکھنے لگ گئے اپنے بڑھاپے کی جھریاں

اپنے جوبن پر جب آئی شوخ جوانی دریا کی

پیاسوں کے رُتبے کے بارے دشت بتا سکتا ہے یا

دسویں محرم کو سن لینا نوحہ خوانی دریا کی


اسامہ امیر

No comments:

Post a Comment