Friday, 26 March 2021

گلیاں ہیں بہت سی ابھی دیوار کے آگے

 گلیاں ہیں بہت سی ابھی دیوار کے آگے

سنسار ملیں گے تجھے سنسار کے آگے

معنی کی نئی شرحیں تھیں ہر بات میں اس کی

اقرار سے پہلے، کبھی انکار کے آگے

تقدیر جسے کہتے ہیں دنیا کے مفکر

زردار کے پیچھے ہے تو نادار کے آگے

ان کو بھی سمجھنا ہے ابھی صاحب ادراک

ہوتے ہیں حقائق بھی تو اخبار کے آگے

کیا عزتِ سادات ذرا دیر نہ ٹھہری

دستار بھی پازیب کی جھنکار کے آگے

اب ہاتھ قلم ہونے ہیں کیا گزری ہو سوچو

جب بات گئی ہو گی یہ معمار کے آگے

محدود ہی ہوتی ہے سدا سطوت شمشیر

لانا ہے قلم کو تِری تلوار کے آگے


قیصر خالد

No comments:

Post a Comment