Monday, 1 March 2021

جواں دل ہجرتیں کرنے لگے ہیں

 جواں دل ہجرتیں کرنے لگے ہیں

گلے کٹ کر بدن سے گِر رہے ہیں

سنائیں کس طرح قصے وفا کے

مِرے چاروں طرف پہرے لگے ہیں

محبت کی کوئی کھڑکی نہیں ہے

تعجب ہے کہ پھر بھی جی رہے ہیں

لکھوں کیسے تمہاری داستاں میں

کہ کاغذ خون میں بھیگے ہوئے ہیں

مسافت ہجر کی آساں نہیں ہے

محبت کے مسافر بولتے ہیں

وسیم اب ہو گیا محسوس ہم کو

محبت ہم بھی اب کرنے لگے ہیں


وسیم بدایونی

No comments:

Post a Comment