Saturday, 27 March 2021

اب اس مکاں میں نیا کوئی در نہیں کرنا

 اب اس مکاں میں نیا کوئی در نہیں کرنا

یہ کام سہل بہت ہے،۔ مگر نہیں کرنا

ذرا ہی دیر میں کیا جانے کیا ہو رات کا رنگ

سو، اب قیام سرِ رہ گزر نہیں کرنا

بیاں تو کر دوں حقیقت اس ایک رات کی سب

پہ شرط یہ ہے کسی کو خبر نہیں کرنا

رفُوگری کو یہ موسم ہے سازگار بہت

ہمیں جُنوں کو ابھی جامہ در نہیں کرنا

خبر ہے گرم کسی قافلے کے لُٹنے کی

یہ واقعہ ہے تو سیر و سفر نہیں کرنا


احمد محفوظ

No comments:

Post a Comment