Thursday, 4 March 2021

بس ایک بار فلک سے اشارہ ہو جائے

 بس ایک بار فلک سے اشارہ ہو جائے

پھر اس کے بعد بھلے جو خسارہ ہو جائے

عجب فضا ہے کہ تحقیق اِس پہ ہے موقوف

جو ہو چکا ہے وہ ہم سے دوبارہ ہو جائے

ہتھیلیوں سے حلق میں اترتا جامِ وصال 

کسی گلاس میں ڈالیں تو کھارا ہو جائے

 بس اتنا دور رہوں گا کہ تجھ کو دیکھ سکوں 

کچھ اتنا دور کہ میرا گزارہ ہو جائے 

یہ جتنی روشنی صدیوں میں جذب کر چکی ہے

زمین چاند کو لے کر ستارہ ہو جائے

بھلے وہ سمجھے کہ میں بات سے مکر رہا ہوں 

مفید ہے غلطی کا کفارہ ہو جائے

عجب نہیں کوئی تجھ سا بنا دیا جائے 

عجب نہیں ہے کہ تُو اور پیارا ہو جائے 

یہ طاقچوں میں رکھے سب چراغ سورج ہیں

اگر وہ چاند سا چہرہ ہمارا ہو جائے


حارث بلال

No comments:

Post a Comment