تمہارا سوگ خوشی سے اگر مناتا میں
سیہ لباس بھلا کس لیے سِلاتا میں
وگرنہ حال تجھے دل کا میں سنا دیتا
پرائی آنکھ سے آنسو نہیں بہاتا میں
کرائے دار کے جیسی تھی زندگی میری
قیام دائمی ہوتا تو گھر بناتا میں
دراڑیں اس میں تھیں، تقسیم ہو رہی تھی ذات
سو آئینے کو بچاتا تو ٹوٹ جاتا میں
مجھے تو زہر میں لگتی تھی شہد کی تاثیر
یقین پختہ نہ ہوتا تو مر نہ جاتا میں؟
تمہاری آنکھوں کو دیکھا تو اک سرور ملا
شراب پیتا تو ممکن تھا لڑکھڑاتا میں
تھا منتظر کسی دستک کا میرا دروازہ
جو تم نہ آتے تو خود سے ہی کھٹکھٹاتا میں
میں مانتا ہوں برا مجھ کو بھی لگا لیکن
تو اینٹ رکھتا تو پتھر نہیں اٹھاتا میں
عمیر قریشی
No comments:
Post a Comment