Thursday, 1 April 2021

قلم اٹھاؤ اداس لوگو حقیقتوں کا صفحہ نکالو

قلم اُٹھاؤ

اُداس لوگو

اداسیوں کا لباس تن سے اُتار پھینکو

اے خواہشوں کے اسیر لوگو

حقیقتوں سے نظر نہ پھیرو

کئی سسکتی ہوئی سی بے سود خواہشوں کا 

جو آج نوحہ سُنا رہے ہو

اسی پہ رونا شعار تم نے بنا لیا ہے 

ذرا بتاؤ

کہ خواب تکنا 

انہیں میں جینا 

انہیں میں شام و سحر بِتانا

عجب نہیں ہے؟

قلم اُٹھاؤ

حقیقتوں کا صفحہ نکالو

اور اس پہ لکھو کہ؛ بھُوک کیا ہے 

یہ ننگ کیا ہے

اگر تمہیں اس جہانِ فانی کی چاہتوں سے 

ملے جو فُرصت 

تو آنکھ کھولو 

ضرور لکھو؛ فضاؤں کے دُکھ 

ہواؤں کے دُکھ 

وہ بیٹیوں کی رِداؤں کے دُکھ

غریب لوگوں کے خواب لکھو

تمام ان کے عذاب لکھو

خیال کی اس عجیب و کمزور ایک دنیا میں جینے والو

تمہیں تو ہجر و وِصال لکھنا ہے 

اور پھُولوں کو گال لکھنا ہے 

حُسن کو لازوال لکھنا ہے 

زُلف، عارض، یہ نین، کنگن

انہیں کو تم نے کمال لکھنا ہے

تم کو کیا غم 

محبتوں کے غموں کو تم نے عظیم غم جو بنا لیا ہے

جو مُفلسی کی اذیتوں کے عذاب ٹُوٹے تو کیا کرو گے؟

سو اس سے پہلے ہی آنکھ کھولو 

نہ خواب دیکھو

جو زندگی کو ترس رہے ہیں 

کبھی تو ان کے عذاب لکھو

قلم اُٹھاؤ 

اُداس لوگو


فوزیہ رباب

No comments:

Post a Comment