حال دل جا کے ان کو میرا بتایا جائے
کوئی بھی راز نہ اب ان سے چھپایا جائے
جن چراغوں سے ملے روشنی انسانوں کو
ایسے پاکیزہ چراغوں کو جلایا جائے
جن چراغوں سے نہ انسانوں کو کچھ فیض ملے
ایسے ناپاک چراغوں کو بجھایا جائے
جو ہیں گلشن کو مٹانے کے لیے آمادہ
ان کے منصوبوں کو مٹی میں ملایا جائے
مان لو باتیں تم عوض کی گرہ باندھ لو تم
اپنے گلشن کو گلستاں بنایا جائے
عوض کیرانوی
No comments:
Post a Comment