Monday, 12 April 2021

ہوتا ہے بدگمان وہ اتنا کبھی کبھی

 ہوتا ہے بد گمان وہ اتنا کبھی کبھی

بہتا ہے الٹی سمت میں دریا کبھی کبھی

قسمت پہ اتنا بھی نہ کرو اعتبار تم

کرتا ہے بے وفائی ستارا کبھی کبھی

کس پل میں کیا ہو اور ہو کس پل میں کیا پتہ

لگتا نہیں پتہ مجھے تیرا کبھی کبھی

ہوتی نہیں ہے روز سخاوت جناب کی

ہوتا ہے اس طرف سے اشارا کبھی کبھی

چاروں طرف ہے شور گھُٹی سی پُکار کا

بہری سماعتوں کا ہے شکوا کبھی کبھی

بازی لگا کے داؤ پہ رکھے جو زندگی

جیتا بھی ہے ضرور جو ہارا کبھی کبھی

یوں تو ہمیشہ میری سماعت تھی منتظر

یہ اور بات تم نے پکارا کبھی کبھی


حیاء غزل

No comments:

Post a Comment