دل کے اس پار ہو گیا تھا جی
لفظ، تلوار ہو گیا تھا جی
اچھا خاصا ذہین لڑکا تھا
پھر اُسے پیار ہو گیا تھا جی
وہ تو یوں ہی ذرا پریشاں تھی
اور، میں بیمار ہو گیا تھا جی
اُس کے گاؤں کا ایک عرصے تک
حُسن، معیار ہو گیا تھا جی
اس میں اور چاند میں گھڑی بھر کو
فرق دُشوار ہو گیا تھا جی
روز تھوڑی نہ پیار ہوتا ہے
ایک دو بار ہو گیا تھا جی
ہم نہ تھے لوگ ہارنے والے
پِیٹھ پر وار ہو گیا تھا جی
عثمان لیاقت
No comments:
Post a Comment