Saturday, 3 April 2021

فرط حیرت میں مبتلا رہا ہوں

 فرطِ حیرت میں مُبتلا رہا ہوں

یعنی میں خواب دیکھتا رہا ہوں

ایک چہرہ ہے میری آنکھوں میں

جس کو دیوار پر بنا رہا ہوں

میں تِری چال سب سمجھتا ہوں

ناخدا! میں بھی ناخدا رہا ہوں

میں نے اندر ہی کر لیا روشن

آسماں کا دِیا بُجھا رہا ہوں

ایسے پیوند ہیں لگے مجھ میں

جیسے مجذوب کی قبا رہا ہوں

میں کہیں خاص ہوں کہیں پر عام

کہیں کھوٹا، کہیں کھرا رہا ہوں


دانش حیات

No comments:

Post a Comment