Saturday, 3 April 2021

جو صدف زیر آب ہوتی ہے

 جو صدف زیرِ آب ہوتی ہے

اصل میں لعلِ ناب ہوتی ہے

دیکھ تو روز تیری گلیوں میں

اپنی مٹی خراب ہوتی ہے

کوئی قاری نہ ہو تو کیا کیجے

ذات تو الکتاب ہوتی ہے

وہ ہی دیدار کا تقاضہ کرے

جس کو جلوے کی تاب ہوتی ہے

پیجیے گر نگاہِ ساقی سے

مے کشی تو ثواب ہوتی ہے

کون جانے کہ ہم فقیروں کی

ہر ادا لا جواب ہوتی ہے

جس کو آبِ حیات کہتے ہیں

اصل میں وہ شراب ہوتی ہے

وارثی کیا خبر نابینوں کو

چشمِ بِینا عذاب ہوتی ہے


بشارت وارثی

No comments:

Post a Comment