Saturday, 24 April 2021

نئے موسموں میں ڈھل کر دیکھنا تھا

 نئے موسموں میں ڈھل کر دیکھنا تھا

ہمیں خود کو بدل کر دیکھنا تھا

بلا کی خوب صورت ہے یہ دنیا

اسے گھر سے نکل کر دیکھنا تھا

بہت ممکن تھا رستے راس آتے

ہمیں کچھ دور چل کر دیکھنا تھا

ہم اپنے آپ سے اُکتا گئے ہیں

ہمیں خود سے نکل کر دیکھنا تھا

ان آنکھوں کو غلط لت لگ گئی ہے

حسیں منظر سنبھل کر دیکھنا تھا

بُتوں پر تبصرہ کرنے سے پہلے

تمہیں پتھر میں ڈھل کر دیکھنا تھا


پون کمار

No comments:

Post a Comment