نئے موسموں میں ڈھل کر دیکھنا تھا
ہمیں خود کو بدل کر دیکھنا تھا
بلا کی خوب صورت ہے یہ دنیا
اسے گھر سے نکل کر دیکھنا تھا
بہت ممکن تھا رستے راس آتے
ہمیں کچھ دور چل کر دیکھنا تھا
ہم اپنے آپ سے اُکتا گئے ہیں
ہمیں خود سے نکل کر دیکھنا تھا
ان آنکھوں کو غلط لت لگ گئی ہے
حسیں منظر سنبھل کر دیکھنا تھا
بُتوں پر تبصرہ کرنے سے پہلے
تمہیں پتھر میں ڈھل کر دیکھنا تھا
پون کمار
No comments:
Post a Comment