Saturday, 10 April 2021

منزل سے پہلے ہی چلنا چھوڑ دیا

منزل سے پہلے ہی چلنا چھوڑ دیا

مجھ کو اس نے راہ میں تنہا چھوڑ دیا

پھینک دی اس نے ہاتھ سے جب تلوار تو پھر

میں نے بھی دُشمن کو زندہ چھوڑ دیا

دور ترقی! تیرے صدقے چھوٹوں نے

اپنے بڑوں کی عزت کرنا چھوڑ دیا

تب سے ہی تو سُوکھ گیا ہے وہ دریا

جب سے تم نے اس میں نہانا چھوڑ دیا

اک معمولی پنہارن کی چاہت میں

شہزادے نے شہر بخارا چھوڑ دیا

عالم جب سے اس نے نظریں پھیری ہیں

آنکھوں نے بھی خواب سجانا چھوڑ دیا


اشتیاق عالم کمالوی

No comments:

Post a Comment