منزل سے پہلے ہی چلنا چھوڑ دیا
مجھ کو اس نے راہ میں تنہا چھوڑ دیا
پھینک دی اس نے ہاتھ سے جب تلوار تو پھر
میں نے بھی دُشمن کو زندہ چھوڑ دیا
دور ترقی! تیرے صدقے چھوٹوں نے
اپنے بڑوں کی عزت کرنا چھوڑ دیا
تب سے ہی تو سُوکھ گیا ہے وہ دریا
جب سے تم نے اس میں نہانا چھوڑ دیا
اک معمولی پنہارن کی چاہت میں
شہزادے نے شہر بخارا چھوڑ دیا
عالم جب سے اس نے نظریں پھیری ہیں
آنکھوں نے بھی خواب سجانا چھوڑ دیا
اشتیاق عالم کمالوی
No comments:
Post a Comment