تجھ سے میں مجھ سے آشنا تم ہو
میں ہوں خوشبو، مگر ہوا تم ہو
میں لکھاوٹ تمہارے ہاتھوں کی
میری تقدیر کا لِکھا تم ہو
تم اگر سچ ہو، میں بھی جھوٹ نہیں
عکس میں، میرا آئینہ تم ہو
اپنی مجبوریوں کا رنج نہیں
بے وفا میں ہوں، باوفا تم ہو
روگ بن کے پڑا ہوا ہے کنول
تم دوا ہو، مِری دعا تم ہو
رمیش کنول
No comments:
Post a Comment