مجھے التفات سے باز رکھ مجھے زندگی کی سزا نہ دے
یہ نوازشات کا سلسلہ، مِرا درد اور بڑھا نہ دے
کبھی رنگ روپ بدل لیا، کبھی خود کو خود سے چھپا لیا
کہ جہانِ حرص و ہوس کہیں کوئی تازہ زخم لگا نہ دے
یہ ہے میری خواہشِ معتبر مجھے گھر کے کونے میں دفن کر
مجھے گھر کے کونے میں دفن کر مجھے بےگھری کی سزا نہ دے
ذرا ہاتھ رکھ مِرے ہاتھ پر، ذرا غور کر مِری بات پر
تِرے ہجر کی یہ تپش کہیں مِری خواہشوں کو مٹا نہ دے
ابھی صبر کر ابھی صبر کر، کسی فیصلے سے گریز کر
تِری گھر بسانے کی آرزو یہ مکان تیرا جلا نہ دے
ثبین سیف
No comments:
Post a Comment