Thursday, 20 May 2021

دل میں ان کا خیال آتا ہے

 دل میں ان کا خیال آتا ہے

اور پہروں مجھے رُلاتا ہے

بس تُو ہی تُو ہے ہر طرف موجود

کوئی آتا ہے اور نہ جاتا ہے

آنکھوں آنکھوں میں لے لیا دل کو

اور دل میں کوئی سماتا ہے

ظُلمتوں کا گُزر کہاں ممکن

ان کا روشن خیال آتا ہے

اپنی صُورت کہاں رہی واصل

ان کی صُورت کا سب تماشا ہے


واصل بہرائچی

ابو محمد واصل

No comments:

Post a Comment