افسوس کی گلی ہے اور گھر ہے کاش کا
یہ حال ہے ازل سے مِری بُود و باش کا
اک میری ڈور ہی نہیں نادیدہ ہاتھ میں
ہر بادشاہِ وقت بھی پتا ہے تاش کا
وہ حسنِ بے مثال کا پیکر نہیں، تو پھر
لاؤ کہیں سے جسم کوئی اس تراش کا
وہ کب کا مل چکا ہے مجھے پھر بھی دوستو
در پیش ہے سفر ابھی اس کی تلاش کا
ساحر حسیب
No comments:
Post a Comment