Wednesday, 5 May 2021

افسوس کی گلی ہے اور گھر ہے کاش کا

 افسوس کی گلی ہے اور گھر ہے کاش کا

یہ حال ہے ازل سے مِری بُود و باش کا

اک میری ڈور ہی نہیں نادیدہ ہاتھ میں

ہر بادشاہِ وقت بھی پتا ہے تاش کا

وہ حسنِ بے مثال کا پیکر نہیں، تو پھر

لاؤ کہیں سے جسم کوئی اس تراش کا

وہ کب کا مل چکا ہے مجھے پھر بھی دوستو

در پیش ہے سفر ابھی اس کی تلاش کا


ساحر حسیب

No comments:

Post a Comment