Thursday, 20 May 2021

غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ

 غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ

دیپ ہر گام پہ جل جائیں گے رفتہ رفتہ

آبلہ پائی ہی کافی ہے ترا رخت سفر

خار خود گل میں بدل جائیں گے رفتہ رفتہ

طور پر آ کے ذرا آپ اٹھائیں تو نقاب

سنگدل بن کے پگھل جائیں گے رفتہ رفتہ

چشم ساقی سے کہاں پی ہے کہ گر کر نہ اٹھیں

جام سے پی ہے سنبھل جائیں گے رفتہ رفتہ

نہ سہی وصل کوئی وصل کا وعدہ تو کرے

ہم تو اس پر ہی بہل جائیں گے رفتہ رفتہ


احمد شاہد

No comments:

Post a Comment