Sunday, 2 May 2021

پامال نقش ہوں میں ابھارو گے کیا مجھے

 پامال نقش ہوں میں ابھارو گے کیا مجھے

تم اپنے آئینے میں سنوارو گے کیا مجھے

کورے بدن کے واسطے تنہائی موت ہے

میں زندگی کا روپ ہوں دھارو گے کیا مجھے

جیسے پکارتے ہو مجھے تم نشیب میں

ایسے بلندیوں پہ پکارو گے کیا مجھے

میں شال کی بُنت کا دوپٹہ ہوں اصل میں

سردی گزر گئی تو اتارو گے کیا مجھے

اچھا نہیں ہے اس قدر افراطِ قُرب بھی

پھُولوں کا بوجھ لاد کے مارو گے کیا مجھے


پارس مزاری

No comments:

Post a Comment