Sunday, 2 May 2021

دیکھیے گردش افلاک سے کیا بنتا ہے

دیکھیۓ گردشِ افلاک سے کیا بنتا ہے

نم نہیں خاک تو پھر خاک سے کیا بنتا ہے

ایک بھولی ہوئی صورت کے حسیں خد و خال

کوزہ گر اور بتا چاک سے کیا بنتا ہے

سال ہا سال کے غم مثلِ گُہر بنتے ہیں

کیا کہا؛ دیدۂ نم ناک سے کیا بنتا ہے

جذبۂ عشق کے اظہار سے خائف مِری جاں

اب تِرے جذبۂ بے باک سے کیا بنتا ہے

قیس کا جا کے کریں چاک گریبان رفو

اور مِرے دامن صد چاک سے کیا بنتا ہے

پہلے تو ہم سے اسیروں کا قفس بنتا تھا

اب تِری زلف کے پیچاک سے کیا بنتا ہے

دل کی ندیا پہ بنانا ہے مجھے چاند کا عکس

دیکھ تجھ صاحب ادراک سے کیا بنتا ہے


شجاعت سحر جمالی

No comments:

Post a Comment