دھڑکن میں سِلا شکوہ
اے کاش کبھی تُو نے
اک جنم لیا ہوتا
تُو بھی کسی وحشت کی
مٹی سے گُندھا ہوتا
یہ درد کبھی تیری
دھڑکن میں سِلا ہوتا
تیرا بھی کوئی رشتہ
دھاگے سے بندھا ہوتا
تجھ کو بھی خبر ہوتی
کیا ظلم رچایا ہے
انسان کے ہونے میں
کیا عیب چھُپایا ہے
عائشہ غازی
No comments:
Post a Comment