Sunday, 2 May 2021

اب کے موسم میں کوئی خواب سجایا ہی نہیں

اب کے موسم میں کوئی خواب سجایا ہی نہیں

زرد پتوں کو ہواؤں نے گِرایا ہی نہیں

دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم

ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں

کیوں تِرے واسطے اس دل میں جگہ ہے ورنہ

کوئی چہرہ مِری آنکھوں میں سمایا ہی نہیں

اس نے بھی مانگ لیا آج محبت کا ثبوت

ایک لمحے کے لیے جس کو بُھلایا ہی نہیں

مجھ کو تنہائی نے گھیرا ہے کئی بار، مگر

اُس کی یادوں نے مگر ساتھ نِبھایا ہی نہیں

جس کی خُوشبو سے مہکتے مِرے گھر کے در و بام

وقت نے رنگ کوئی ایسا دِکھایا ہی نہیں

روشنی اپنے مقدر کہاں ہو گی شبین

جب دِیا ہم نے اندھیروں میں جلایا ہی نہیں


شبانہ شبین زیدی

No comments:

Post a Comment