Thursday, 20 May 2021

کیوں وہ محبوب رو برو نہ رہے

 کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے

کیوں نگاہوں میں گفتگو نہ رہے

عشق ہے منتہائے محویت

آرزو کی بھی آرزو نہ رہے

زندگی یہ کہ وہ تجھے چاہیں

موت ہے یہ کہ آبرو نہ رہے

بندگی ہے سپردگئ تمام

ان کی مرضی میں گفتگو نہ رہے

تم جو بیٹھے ہو چھپ کے پردوں میں

چشم کیوں محو رنگ و بو نہ رہے

دل کا ہر بار ہے نیا عالم

کیوں خیالوں میں گفتگو نہ رہے

چشم ساقی ہو مہربان اگر

خواہش بادہ و سبو نہ رہے

آنکھ وہ اس کو پا نہیں سکتی

خون دل سے جو با وضو نہ رہے

دوست سے مان تاجؔ وہ ہستی

جس میں کچھ فرق ماوتو نہ رہے


ظہیر احمد تاج

No comments:

Post a Comment