Sunday, 2 May 2021

تم یہ سمجھ رہے تھے نشانے پہ آ گیا

 تم یہ سمجھ رہے تھے نشانے پہ آ گیا

میں گھوم پھر کے اپنے ٹھکانے پہ آ گیا

دربان سے اُلجھنے کا یہ فائدہ ہوا

باہر وہ میرے شور مچانے پہ آ گیا

تعریف اس کے کام کی مہنگی پڑی مجھے

وہ شخص اپنے دام بڑھانے پہ آ گیا

تصویر اس کی گھر میں لگانے کی دیر تھی

مالک مکان مجھ کو اُٹھانے پہ آ گیا

پھر یوں ہوا کہ پیاس ہی محبوب مر گئی

جس وقت میں کنویں کے دہانے پہ آ گیا


خالد محبوب

No comments:

Post a Comment