Thursday, 20 May 2021

جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں

 جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں

ایسی خوشبو کہاں ہے رات کی رانی میں

ابھرا تھا آنکھوں میں ایک سنہرا خواب

جاتے جاتے دے گیا زخم نشانی میں

رات گئے تک یوں ہی تنہا ساحل پر

گھومتے رہنا پاؤں پاؤں پانی میں

اترا جو اس دل میں قافلہ الفت کا

کیسی کیسی غزلیں ہوئیں روانی میں

کیوں بے رنگ کیا ہے میری اوڑھنی کو

تیرے غم کی دھوپ نے بھری جوانی میں

کب سے اپنا بچپن ڈھونڈھتی پھرتی ہے

بینا تیری بکھری ہوئی کہانی میں


بینا گوئندی

No comments:

Post a Comment