میری طرف نہ دیکھ مگر رابطہ تو کر
لینے کو تُو کسی کی خبر رابطہ تو کر
تو چھوڑ یہ محلہ یہ گلی بھی چھوڑ دے
آخر ہے تجھ کو کون سا ڈر رابطہ تو کر
اے آسماں کے چاند تُو روشن رہے سدا
بے شک نہ فرش پر تُو اتر، رابطہ تو کر
امجد نہ کر بھروسہ کسی بات پر مِری
مت حال پوچھ میرا مگر رابطہ تو کر
امجد علی
No comments:
Post a Comment