بے شمارو میرے یارو! الوِداع
مرغزارو، چاند تارو، الوداع
میں چلا آرام کرنے کچھ گھڑی
بے سکونو، بے قرارو! الوداع
اب رہوں گا نفرتوں کے شہر میں
چاہتوں کے دعوے دارو! الوداع
خوب گزری جو بھی گزری ساتھ میں
غم کے مارو، رِشتہ دارو! الوداع
اے مِری ہر رات کے ہمراہیوں
اے ستارو، غم گسارو! الوداع
موج نے اب ساحلوں کے درمیاں
پھینک ڈالا، اے کنارو! الوداع
رات کی آغوش ہے اور ہجر ہے
ہوش کے اُلجھے مدارو! الوداع
لو مبارک ہو تمہیں یہ بزم اب
بس کرو اب مت پکارو، الوداع
ساز، نغمہ، جام، بزمِ دوستاں
زِیست کے جھوٹے سہارو! الوداع
رقصِ دانش فکر کے دربار میں
اے جنوں کے ٹھیکیدارو! الوداع
دانش عزیز
No comments:
Post a Comment