بِرہا کی رُت آئی ہے، ناچوں گاؤں کس کے لیے؟
رانجھا مجھ سے رُوٹھ گیا، ہیر سناؤں کس کے لیے
آج مِلا ہے پَتر تمہارا، تم نے ساتھی ڈھونڈ لیا
بالی نوچوں، کنگن توڑوں، مہندی لگاؤں کس کے لیے
تم کیا رُوٹھے، رُوٹھا مجھ سے اب تو سارا گاؤں
بیت ہی گئے جب سمے سہانے آس لگاؤں کس کے لیے
اب کے ساون ایسا برسا ڈوب کے رہ گئی من کی بگیا
میں بِر ہنیا، پریم کی ماری، ساون گاؤں کس کے لیے
پریم کا بندھن سب سے اُتم، پریم تو مانگے جان
جان تو پریتم لے گیا موری، بازی لگاؤں کس کے لیے
من مندر میں گھُپ اندھیارا، اکھڑی جائے سانس
بِرہا آگ میں جل رہی ہوں، دیپ جلاؤں کس کے لیے
کس کی نگری میں جا بیٹھے ہو، کچھ تو مورکھ بول
ٹھور ٹھکانہ ملتا نہیں ہے پھیرا لگاؤں کس کے لیے
تکتے تکتے راہ میں ہاری،. آنکھ پتھرائی صالح جی
دھیرے دھیرے بجھ گئے نیناں، جوت جگاؤں کس کے لیے
صالح اچھا
No comments:
Post a Comment