Tuesday, 22 June 2021

خشک روٹی توڑنی ہے سرد پانی چاہیے

 خشک روٹی توڑنی ہے، سرد پانی چاہیے

کیا کسی گِرجے کی کُنڈی کھٹکھٹانی چاہیے

اے سماعت اس فضا میں آج بھی موجود ہے

ہاں نوائے نغمۂ کُن تجھ کو آنی چاہیے

کاہنا! ہم سے روایت کا مکمل متن سن

بطن میں جلتی ہوئی شمع‌ معانی چاہیے

سابقہ نقشے پہ تازہ سلطنت ایجاد ہو

آسماں نیلا بنانا، گھاس دھانی چاہیے

گمشدہ سورج کو روتا ہے مِرا یومِ سپید

سُرمئی شب کو چراغ آنجہانی چاہیے

حسن کے گارے میں آبِ عشق کی چھینٹیں ملا

چمپئی رنگت میں آتش سنسنانی چاہیے

جسم کی گوشہ نشینی اور کتنے روز ہے

بندۂ ربِ علی کو لا مکانی چاہیے


احمد جہانگیر

No comments:

Post a Comment