Wednesday, 2 June 2021

جرم سب ان کے سر گئے شاید

جرم سب ان کے سر گئے شاید

دن ہمارے سنور گئے شاید

سہمی سہمی ہوئی نظر توبہ

اپنے سائے سے ڈر گئے شاید

حُسن کا جن کے خُوب چرچا تھا

وہ حسینوں پہ مر گئے شاید

آج محفل میں کیوں اندھیرا ہے

ان کے گیسُو بکھر گئے شاید

پڑھ لیا کرتے تھے جو چہروں کو

اب وہ اہلِ نظر گئے شاید

اُڑ رہے تھے جو کل بلندی پر

آسماں سے اُتر گئے شاید

راستے ہی میں تھک کے بیٹھ گئے

اب وہ عزمِ سفر گئے شاید

ناز تھا جن پہ اہلِ دُنیا کو

لوگ ایسے گُزر گئے شاید

اپنی شہرت کے واسطے صادق

مجھ کو بدنام کر گئے شاید


خلیل صادق

No comments:

Post a Comment